شاہد آفریدی اور گوتم گمبھیر ایک مرتبہ پھر ٹوئٹر پر آمنے سامنے
شاہد آفریدی اور گوتم گمبھیر ایک مرتبہ پھر ٹوئٹر پر آمنے سامنے: پاکستانی اور انڈین مداحوں کی روایتی نوک جھونک
کرکٹ کے میدان ویران پڑے ہیں، کھلاڑی گھروں میں محدود ہیں اور ایسے میں شائقین پرانے کرکٹ میچیز دیکھ کر ہی لاک ڈاؤن میں اپنے دلوں کو بہلا رہے ہیں۔
کرکٹ میچ کے دوران مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کے بیچ ہونے والی گرما گرمی تو مداحوں کو عرصہ دراز تک یاد رہتی ہی ہے لیکن اب یہ نوک جھونک سوشل میڈیا پر بھی نظر آتی ہے۔
سنہ 2007 میں انڈیا کے شہر کان پور کے گرین پارک سٹیڈیم میں انڈیا کے سابق اوپننگ بلے باز گوتم گمبھیر اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شاہد آفریدی کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کا سلسلہ کرکٹ کے میدان سے باہر آج بھی جاری ہے اور دونوں کے درمیان زبانی جنگ ایک مرتبہ پھر ٹوئٹر کی زینت بنی ہوئی ہے۔
اس مرتبہ اس لفظی جنگ کا آغاز کرنے والا کرکٹ کی خبروں سے وابستہ سوشل میڈیا پیج سرکل آف کرکٹ ہے جس نے 17 اپریل کو اپنی ایک پوسٹ میں شاہد آفریدی کی کتاب ’گیم چینجر‘ کا حوالہ دیا۔
اس ٹویٹ میں شاہد آفریدی کا گوتم سے متعلق وہ بیان شائع کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے کافی نخرے ہیں، وہ خود کو ڈان بریڈ مین اور جیمز بانڈ کا امتزاج سمجھتے ہیں، اس کے باوجود کے ان کا کوئی خاص ریکارڈ بھی نہیں۔
سوشل میڈیا پر دیکھتے ہی دیکھتے یہ بیان گردش کرنے لگا اور گوتم گمبھیر بھی ماضی کی طرح میدان میں کود پڑے اور اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے اپنا دفاع کیا۔
گوتم نے لکھا: ’جس شخص کو اپنی عمر یاد نہ ہو وہ میرے ریکارڈز کیا یاد رکھے گا، شاہد آفریدی میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ میں نے سنہ 2007 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی فائنل میں 54 گیندوں پر 75 رنز بنائے تھے جبکہ آپ پہلی گیند پر صفر پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ ورلڈ کپ بھی ہم جیت گئے تھے۔‘
گوتم کی ٹویٹ پر عوام کا رد عمل
اس ردعمل کے بعد ہمیشہ کی طرح پاکستان اور انڈیا کے مداح اس ٹویٹ کے نیچے کمنٹ کرتے دکھائی دیے۔
پاکستانی شائقین گوتم کو آفریدی کے چھکے یاد دلاتے نظر آئے جبکہ انڈین شائقین آفریدی کو جواب دینے پر گمبھیر کو سراہتے نظر آئے۔
ایک طرف پاکستانی صارفین بین الاقوامی میچیز میں پاکستان کا انڈیا پر پلڑا بھاری ہونے کا ذکر کرتے نظر آئے جبکہ انڈین صارفین نے ورلڈ کپ میں انڈیا کی پاکستان کے خلاف سمیٹی جانے والی فتوحات کا ذکر کیا۔
پاکستان کے معروف سپورٹس جرنلسٹ فیضان لاکھانی نے اس حوالے سے ٹویٹ کی اور شاہد آفریدی کی حمایت میں صارفین کے ساتھ چند اعداد و شمار بھی شئیر کیے۔
ایک صارف نے گوتم کی سنہ 2007 ورلڈ کپ کی فتح میں اہم کردار ادا کرنے والی بات سے اتفاق تو کیا ہی مگر ساتھ سنہ 2011 کے ورلڈ کپ فائنل میں ان کی 97 رنز کی اننگز کا بھی ذکر کیا۔
آفریدی اور گمبھیر میں لفظی جنگ کوئی نئی بات نہیں
پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی اور انڈیا کے سابق اوپنر گوتم گمبھیر سیاسی اور سماجی مسائل پر کھل کر تبصرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کے باعث یہ آپسی نوک جھونک صرف کرکٹ تک ہی محدود نہیں رہتی۔
گوتم گمبھیر نے گذشتہ سال مارچ میں قوم پرست حکمران جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انڈیا کی لوک سبھا یعنی پارلیمان کے گذشتہ سال ہونے والے انتخابات میں وہ مشرقی دلی کی نشست پر فتح یاب بھی ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ رسمی طور پر سیاست میں آنے سے قبل 2018 میں بھی ان دونوں کرکٹرز میں کشمیر کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی۔
شاہد آفریدی نے اپریل 2018 میں ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال کو ’ہولناک اور پریشان کن' قرار دیا۔
اس کے جواب میں گوتم نے لکھا کہ آفریدی الفاظ کے چناؤ میں ذہنی طور پر پسماندہ ہیں۔
آفریدی اور گمبھیر صرف آپس میں ہی نہیں لڑتے
کرکٹ سے جُڑی خبروں سے وابستہ ویب سائٹ کرک انفو نے اپریل کے اوائل میں ایک تصویر شئیر کی جس میں سنہ 2011 کا ورلڈ کپ جیتنے والے اس چھکے کی جھلک تھی جو ایم ایس دھونی نے مارا تھا۔
اس پر تنازعہ تب بنا جب گوتم نے اس کے جواب میں کہا کہ کرک انفو کو اب اس چھکے کی یاد سے باہر آ جانا چاہیے اور یہ کہ سنہ 2011 کی فتح پوری انڈین ٹیم اور معاون عملے کی محنت کے باعث حاصل ہوئی تھی۔
آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے بھی پاکستان کے سابق کپتان جاوید میانداد کے خلاف سنہ 2016 میں عدالتی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد دونوں کرکٹرز میں صلح صفائی ہو گئی اور معاملہ عدالت تک نہ پہنچا۔
یہ رنجش اس وقت بڑھی تھی جب ایک تقریب کے دوران شاہد آفریدی سے یہ سوال کیا گیا کہ جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ آپ پیسوں کے لیے اپنا الوداعی میچ چاہتے ہیں۔
اس کے رد عمل میں شاہد آفریدی نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ جاوید میانداد کو ساری زندگی پیسوں کا مسئلہ رہا اور ابھی بھی رہا ہے۔
شاہد آفریدی نے اس وقت بھی پاکستان کے مایہ ناز بلے باز کو جواب دینے میں تاخیر نہیں کی تھی اور اب بھی پاکستانی اور انڈین مداح دونوں ہی گوتم گھمبیر کے دیے ہوئے بیان پر آفریدی کے جواب کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔
Comments
Post a Comment