مجھے وزیراعظم عمران خان نے پہچانا ہی نہیں۔ فیصل ایدھی

فیصل ایدھی: وزیراعظم عمران خان نے مجھے پہچانا ہی نہیں




مجھے-وزیراعظم-عمران-خان-نے-پہچانا-ہی-نہیں۔فیصل-ایدھی

پاکستان کے معروف فلاحی ادارے ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور ان کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے دوران وزیراعظم نے انھیں پہچانا ہی نہیں۔
فیصل ایدھی نے ایک نجی چینل کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ وہ چھ سے سات منٹ تک وزیراعظم کے دفتر میں بیٹھے رہے تو عمران خان نے انھیں پہنچانا ہی نہیں اور ان سے کوئی بات نہیں کی۔ اس دوران وزیراعظم اس وقت کورونا فنڈ میں ہی عطیہ کرنے کرنے آئے دو صنعت کاروں سے بات کرتے رہے۔
فیصل ایدھی نے بتایا کہ جب ملاقات ختم ہوئی اور سب لوگ اٹھ کر جانے لگے تو اُن میں سے ایک صنعتکار نے انھیں وزیر اعظم عمران خان سے متعارف کروایا کہ یہ ایدھی صاحب کے بیٹے ہیں، جس کے بعد وزیراعظم نے ان سے ’دروازے پر آدھے منٹ کی‘ بات کی۔
فیصل ایدھی کہتے ہیں کہ اس دوران انھوں نے وزیراعظم سے کہا کہ فلاحی کاموں کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن کی درآمدات پر ٹیکس کی چھوٹ اور ایدھی یونیورسٹی کے چارٹر کی درخواستیں کیں۔

پیسے تو وزیراعظم کو دینے چاہیے تھے

یاد رہے کہ اس ملاقات کے دوران فیصل ایدھی نے کورونا وائرس سے متعلق وزیراعظم کے ریلیف فنڈ میں ایک کروڑ روپے جمع کروائے ہیں۔
اس ملاقات کی جب تصویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تو ایک نئی بحث نے جنم لے لیا کہ کیا ایدھی جیسے فلاحی ادارے کو اس فنڈ میں پیسے جمع کروانے چاہیے تھے یا حکومت کو انھیں پیسے دینے چاہیے تھے کہ وہ اپنے فلاحی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
صارفین یہ پوچھنے لگے کہ کیا ایک ایسا ادارہ جس پر عوام کا اعتماد ہو، کیا وہ اپنی مرضی سے اس پیسے کو کہیں بھی خرچ کر سکتا ہے؟ چاہے پھر اس عطیے میں دینے والے کی مرضی شامل ہو یا نا ہو؟
یہاں سے شروع ہونے والی بات دیکھتے ہی دیکھتے ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کی شکل اختیار کر گئی۔
اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایک اور ٹویٹر یوزر افتخار احمد نے لکھا کہ
'اگر یہ عطیہ کی جانے والی رقم وہ ہے جو لوگوں نے ایدھی فاؤنڈیشن کو دی تھی تو ایدھی صاحب کو ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوام کا پیسہ اس طرح عمران خان کو دے دیں۔لوگ ایدھی پر بھروسہ کرتے ہیں عمران خان پر نہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتاتو وہ براہ راست وزیر اعظم کو یہ رقم پہنچا دیتے۔یے ایدھی ڈونرز کے ساتھ مناسب نہیں ہے۔"
ایک اور صارف نے سوال کیا کہ 'کیا ایک خیراتی ادارے کا حکومت کو خیرات کرنا درست ہے؟ یہ انکی رقم تو نہیں ہے جسکا وہ اپنی منشا سے استعمال کریں؟ درحقیقت میں پریشان ہوں۔ کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ وقت بھی دیکھنے کو ملے گا۔'
سوشل میڈیا پر عوام کے بڑھتے سوالوں کا جواب جاننے کے لیے بی بی سی نے فیصل ایدھی سے بات کی جس پر انکا کہنا تھا کہ انھوں نے جو پیسہ کورونا کی روک تھام کے لیے چندہ میں دیا ہے وہ اس بات کی ضمانت ہے کہ حکومت جو بھی اقدامات کر رہی ہے اس میں وہ حکومت کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'میں نے عمران خان صاحب کو ذاتی بنیاد پر کچھ نہیں دیا بلکہ حکومت پاکستان کو دیا ہے۔ جو کام حکومت کورونا کی روک تھام کے لیے کر سکتی ہے ویسا کوئی کچھ نہیں کر ۔'
انھوں نے وزیر اعظم کو چندہ دینے والی بات کے بعد ان سے نالاں ہونے والے افراد کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یہ وقت ایک پیج پر آ کر اور مل کر کام کرنے کا ہے۔
'ایک دوسرے پر تنقید کرنے سے، لڑائی کرنے سے کورونا کے متاثرین کی مدد نہیں ہو گی بلکہ نقصان ہوگا۔ کورونا سے جنگ لڑنے کے لیے حکومت اور اپوزشن سب کو ساتھ چلنا ہو گا۔'
اس سے قبل سوشل میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے ایک ٹویٹر صارف ڈاکڑ منصور کلاسرا نے لکھا کہ 'فیصل ایدھی سے چیک وصول کرنے کی بجائے عمران خان کو اب تک جمع ہونے والے عطیات ایدھی سنٹر کے حوالے کر دینے چاہیے تھے تا کہ وہ آگے ضرورت مندوں میں اسے تقسیم کرتے، کیونکہ ایدھی ٹرسٹ نا صرف ایک کار گر اور موثر ادارہ ہے بلکہ ذمہ دار انسٹیٹیوشن بھی ہے۔
ایک اور صارف عاصمہ کہتی ہیں کہ 'مجھے لگا کہ فیصل ایدھی عمران خان سے وصول کر رہے ہیں۔لیکن نہیں، در حقیقت وہ پی ایم کورونا فنڈ میں وہ رقم عطیہ کر رہے ہیں جو ایدھی فاؤنڈیشن پر بھروسہ کر کے لوگوں نے انھیں دی تھیں
سوشل میڈیا پر جہاں تنقید بہت وہیں اس کام کو سراہنے والے بھی موجود ہیں۔ایک صارف نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب وزیر اعظم کے کورونا ریلیف فنڈ میں جمع ہونے والا دس ملین روپے کا عطیہ یقینا ایک ایسا قدم ہے جو قدم قابل تحسین ہے.

’ہمارا ڈیٹا غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے‘

دوسری جانب فیصل ایدھی نے ایک ویڈیو پیغام میں ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کیے گئے کچھ ڈیٹا کی بھی وضاحت کی تھی۔
انھوں نے بتایا تھا کہ حال ہی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کو میڈیا میں غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق فاؤنڈیشن نے جو ڈیٹا جاری کیا تھا اس میں یکم اپریل سے تیرہ اپریل تک ایدھی فاؤنڈیشن کے کچھ سرد خانوں پر وصول ہونے والی لاشوں کی تعداد 387 تھی اور اس میں بڑی عمر کے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی۔
فیصل ایدھی نے بتایا کہ گذشتہ سال اسی دورانیے میں 230 تھی اور یہ تقریباً 70 فیصد کا اضافہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان تمام اموات کو کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں شمار کرنا درست نہیں۔
فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ کراچی میں بہت سے ہسپتالوں کے او پی ڈی بند ہوگئے ہیں اور لوگوں تک صحت کی سہولیات مکمل طور پر نہیں پہنچ رہیں جس کی وجہ سے بھی لوگوں کی اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ممکن ہے اس اضافے میں کچھ لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر گئے ہوں تاہم ان تمام کو کورونا کے مریض تصور کرنا درست نہیں ہوگا۔

Comments